.. title: §28ـ حسن کوزہ گر ٣
.. slug: itoohavesomedreams/poem_28
.. date: 2018-11-12 21:20:49 UTC
.. tags: poem itoohavesomedreams rashid
.. link: 
.. description: Urdu version of "Ḥasan kūzah-gar 3"
.. type: text



| جہان زاد،
| 	وہ حلب کی کارواں سرا کا حوض، رات وہ سکوت
| جس میں ایک دوسرے سے ہم کنار تیرتے رہے
| محیط جس طرح ہو دائرے کے گرد حلقہ زن
| تمام رات تیرتے رہے تھے ہم
| ہم ایک دوسرے کے جسم و جاں سے لگ کے
| 		تیرتے رہے تھے ایک شاد کام خوف سے
| کہ جیسے پانی آنسوؤں میں تیرتا رہے
| ہم ایک دوسرے سے مطمئن زوالِ عمر کے خلاف
| 			تیرتے رہے
| تو کہہ اٹھی: "حسن یہاں بھی کھینچ لائی
| 			جاں کی تشنگی تجھے!"
| (لو اپنی جاں کی تشنگی کو یاد کر رہا تھا میں
| کہ میرا حلق آنسوؤں کی بے بہا سخاوتوں
| 			سے شاد کام ہو گیا!)
| مگر یہ وہم دل میں تیرنے لگا کہ ہو نہ ہو
| مرا بدن کہیں حلب کے حوض ہی میں رہ گیا۔
| نہیں، مجھے دوئی کا واہمہ نہیں
| کہ اب بھی ربطِ جسم و جاں کا اعتبار ہے مجھے
| یہی وہ اعتبار تھا
| 	کہ جس نے مجھ کو آپ میں سمو دیا۔۔
| میں سب سے پہلے "آپ" ہوں
| اگر ہمیں ہوں۔۔تو ہو اور میں ہوں۔۔پھر بھی میں
| 		ہر ایک شے سے پہلے آپ ہوں!
| اگر میں زندہ ہوں تو کیسے "آپ" سے دغا کروں؟
| کہ تیری جیسی عورتیں، جہان زاد،
| 		ایسی الجھنیں ہیں
| 	جن کو آج تک کوئی نہیں "سلجھ" سکا
| جو میں کہوں کہ میں "سلجھ" سکا تو سربسر
| 				فریب اپنے آپ سے!
| کہ عورتوں کی ساخت ہے وہ طنز اپنے آپ پر
| جواب جس کا ہم نہیں۔۔
| 
| (لبیب کون ہے؟ تمام رات جس کا ذکر
| 			تیرے لب پہ تھا۔۔
| وہ کون تیرے گیسوؤں کو کھینچتا رہا
| 				لبوں کو نوچتا رہا
| جو میں کبھی نہ کر سکا
| نہیں یہ سچ ہے۔۔میں ہوں یا لبیب ہو
| رقیب ہو تو کس لیے تری خود آگہی کی بے ریا نشاطِ ناب کا
| جو صد نوا و یک نوا خرامِ صبح کی طرح
| لبیب ہر نوائے ساز گار کی نفی سہی!)
| مگر ہمارا رابطہ وصالِ آب و گل نہیں، نہ تھا کبھی
| وجودِ آدمی سے آب و گل سدا بروں رہے
| نہ ہر وصالِ آب و گل سے کوئی جام یا سبو ہی بن سکا
| جو اِن کا ایک واہمہ ہی بن سکے تو بن سکے!
| 
| جہان زاد،
| ایک تُو اور ایک وہ اور ایک میں
| یہ تین زاویے کسی مصلثِ قدیم کے
| ہمیشہ گھومتے رہے
| 	کہ جیسے میرا چاک گھومتا رہا
| مگر نہ اپنے آپ کا کوئی سراغ پا سکے۔۔
| مثلثِ قدیم کو میں توڑ دوں، جو تُو کہے، مگر نہیں
| جو سحر مجھ پہ چاک کا وہی ہے اس مثلثِ قدیم کا
| نگاہیں میرے چاک کی جو مجھ کو دیکھتی ہیں
| 				گھومتے ہوئے
| سبو و جام پر ترا بدن، ترا ہی رنگ، تیری نازکی
| 					برس پڑی
| وہ کیمیا گری ترے جمال کی برس پڑی
| میں سیلِ نورِ اندروں سے دھل گیا!
| مرے دروں کی خلق یوں گلی گلی نکل پڑی
| کہ جیسے صبح کی اذاں سنائی دی!
| تمام کوزے بنتے بنتے "تو" ہی بن کے رہ گئے
| نشاط اس وصالِ رہ گزر کی نا گہاں مجھے نگل گئی۔۔
| یہی پیالہ و صراحی و سبو کا مرحلہ ہے وہ
| 	کہ جب خمیرِ آب و گل سے وہ جدا ہوئے
| 	تو ان کو سمتِ راہِ نو کا کامرانیاں ملیں۔۔
| 	(میں اک غریب کوزہ گر
| 				یہ انتہائے معرفت
| یہ ہر پیالہ و صراحی و سبو کی انتہائے معرفت
| 			مجھے ہو اس کی کیا خبر؟)
| 
| جہان زاد،
| 	انتظار آج بھی مجھے ہے کیوں وہی مگر
| 		جو نو برس کے دورِ نا سزا میں تھا؟
| اب انتظار آنسوؤں کے دجلہ کا
| 			نہ گمرہی کی رات کا
| (شبِ گنہ کی لخّتوں کا اتنا ذکر کر چکا
| 			وہ خود گناہ بن گئیں!)
| حلب کی کارواں سرا کے حوض کا، نہ موت کا
| 	نہ اپنی اس شکست خوردہ ذات کا
| اک انتظارِ بے زماں کا تار ہے بندھا ہوا!
| کبھی جو چند ثانیے زمانِ بے زماں میں آ کے رک گئے
| تو وقت کا یہ بار میرے سر سے بھی اتر گیا
| تمام رفتہ و گذشتہ صورتوں، تمام حادثوں
| 			کے سُست قافلے
| مرے دروں میں جاگ اٹھے
| مرے دروں میں اک جہانِ باز یافتہ کی ریل پیل جاگ اٹھی
| بہشت جیسے جاگ اٹھے خدا کے لا شعور میں!
| میں جاگ اٹھا غنودگی کی ریت پر پڑا ہوا
| غنودگی کی ریت پر پڑے ہوئے وہ کوزے جو
| 		۔مرے وجود سے بروں۔
| تمام ریزہ ریزہ ہو کے رہ گئے تھے
| 	میرے اپنے آپ سے فراق میں،
| وہ پھر سے ایک کُل بنے (کسی نوائے ساز گار کی طرح)
| وہ پھر سے ایک رقصِ بے زماں بنے
| 			وہ رویتِ ازل بنے!


|right arrow link|_

|left arrow link|_



.. |right arrow link| replace:: |arrow_right| §27. حسن کوزہ گر ٢  
.. _right arrow link: /itoohavesomedreams/poem_27

.. |left arrow link| replace::   §29. حسن کوزہ گر ٤ |arrow_left| 
.. _left arrow link: /itoohavesomedreams/poem_29

.. admonition:: I Too Have Some Dreams: N. M. Rashed and Modernism in Urdu Poetry

  یہ ن م راشد کی نظم ہے ـ اس کا انگریزی ترجمہ اور ٹرانزلٹریشن میری کتاب
  کے ضمیمہ میں مل سکتا ہےـ اردو
  پڑھنے والوں کے لئے یہ پیج پیش کیا گیا ہےـ نستعلیق میں
  دکھانے کے لئے 
  `جمیل نوری نستعلیق فانٹ`_  انسٹال کیجئے.


  .. link_figure:: /itoohavesomedreams/
        :title: I Too Have Some Dreams Resource Page
        :class: link-figure
        :image_url: /galleries/i2havesomedreams/i2havesomedreams-small.jpg
        
.. _جمیل نوری نستعلیق فانٹ: http://ur.lmgtfy.com/?q=Jameel+Noori+nastaleeq
 

