.. title: §26ـ حسن کوزہ گر
.. slug: itoohavesomedreams/poem_26
.. date: 2018-11-12 21:20:49 UTC
.. tags: poem itoohavesomedreams rashid
.. link: 
.. description: Urdu version of "Ḥasan kūzah-gar"
.. type: text



| جہاں زاد، نیچے گلی میں ترے در کے آگے
| یہ میں سوختہ سر حَسَن کوزہ گر ہوں!
| تجھے صبح بازار میں بوڑھے عطّار یوسف
| کی دُکّان پر میں نے دیکھا
| تو تیری نگاہوں میں وہ تابناکی
| تھی میں جس کی حسرت میں نو سال دیوانہ پھرتا رہا ہوں
| جہاں زاد، نو سال دیوانہ پھرتا رہا ہوں!
| یہ وہ دَور تھا جس میں میں نے
| کبھی اپنے رنجور کوزوں کی جانب
| پلٹ کر نہ دیکھا۔۔
| وہ کوزے مرے دستِ چابک کے پتلے
| گل و رنگ و روغن کی مخلوقِ بے جاں
| وہ سر گوشیوں میں یہ کہتے:
| "حسن کوزہ گر اب کہاں ہے؟
| وہ ہم سے، خود اپنے عمل سے،
| خداوند بن کر خداؤں کے مانند ہے روئے گرداں!"
| جہاں زاد نو سال کا دور یوں مجھ پہ گزرا
| کہ جیسے کسی شہرِ مدفون پر وقت گزرے؛
| تغاروں میں مٹّی
| کبھی جس کی خوش بو سے وا رفتہ ہوتا تھا میں
| 			سنگ بستہ پڑی تھی
| صراحی و مینا و جام و سبو اور فانوس و گلداں
| مری ہیچ مایہ معیشت کے، اظہارِ فن کے سہارے
| شکستہ پڑے تھے
| میں خود، میں حَسَن کوزہ گر پا بہ گل، خاک بر سر، برہنہ،
| سرِ "چاک" ژولیدہ مو، سر بزانو،
| کسی غمزدہ دیوتا کی طرح واہمہ کے
| گل و لا سے خوابوں کے سیّال کوزے بناتا رہا تھا۔
| جہاں زاد، نو سال پہلے
| تو نا داں تھی لیکن تجھے یہ خبر تھی
| کہ میں نے، حَسَن کوزہ گر نے
| تری قاف کی سی افق تاب آنکھوں 
| میں دیکھی ہے وہ تابناکی کہ جس سے مرے جسم و جاں، ابر و مہتاب کا
| 			رہگزر بن گئے تھے
| جہاں زاد بغداد کی خواب گوں رات،
| وہ رودِ دجلہ کا ساحل،
| وہ کشتی، وہ ملاح کی بند آنکھیں،
| کسی خستہ جاں، رنجبر، کوزہ گر کے لئے
| ایک ہی رات وہ کہربا تھی
| کہ جس سے ابھی تک ہے پیوست اس کا وجود۔۔
| 			اس کی جاں، اس کا پیکر
| مگر ایک ہی رات کا ذوق دریا کی وہ لہر نکلا
| حَسَن کوزہ گر جس میں ڈوبا تو ابھرا نہیں ہے!
| 
| جہاں زاد، اُس دور میں روز، ہر روز
| 			وہ سوختہ بخت آ کر
| مجھے دیکھتی چاک پر پا بہ گل، سر بزانو،
| تو شانوں سے مجھ کو ہلاتی۔۔
| (وہی چاک جو سالہاسال جینے کا تنہا سہارا رہا تھا!)
| وہ شانوں سے مجھ کو ہلاتی:
| "حَسَن کوزہ گر ہوش میں آ
| حَسَن اپنے ویران گھر پر نظر کر
| یہ بچّوں کے تنّور کیونکر بھریں‌گے؟
| حَسَن، اے محبّت کے مارے
| محبّت امیروں کی بازی،
| حَسَن، اپنے دیوار و در پر نظر کر"
| مرے کان میں یہ نوائے حزیں یوں تھی جیسے
| کسی ڈوبتے شخص کو زیرِ گرداب کوئی پکارے!
| وہ اشکوں کے انبار پھولوں کے انبار تھے ہاں
| مگر میں حَسَن کوزہ گر شہرِ اوہام کے ان 
| خرابوں کا مجذوب تھا جن
| میں کوئی صدا کوئی جنبش
| کسی مرغِ پرّاں کا سایہ
| کسی زندگی کا نشاں تک نہیں تھا!
| 
| جہاں زاد، میں آج تیری گلی میں
| یہاں رات کی سرد گوں تیرگی میں
| ترے در کے آگے کھڑا ہوں
| سر و مو پریشاں
| دریچے سے وہ قاف کی سی طلسمی نگاہیں
| مجھے آج پھر جھانکتی ہیں
| زمانہ، جہاں زاد وہ چاک ہے جس پہ مینا و جام و سبو
| 			اور فانوس و گلداں
| کے مانند بنتے بگڑتے ہیں انساں
| میں انساں ہوں لیکن
| یہ نو سال جو غم کے قالب میں گزرے!
| حَسَن کوزہ گر آج اک تودہِ خاک ہے جس
| میں نم کا اثر تک نہیں ہے
| جہاں زاد بازار میں صبح عطّار یوسف
| کی دکّان پر تیری آنکھیں
| پھر اک بار کچھ کہہ گئی ہیں
| اِن آنکھوں کی تابندہ شوخی
| سے اٹّھی ہے پھر تودہِ خاک میں نم کی ہلکی سی لرزش
| یہی شاید اِس خاک کو گل بنا دے!
| 
| تمنّا کی وسعت کی کس کو خبر ہے، جہاں زاد لیکن
| تو چاہے تو بن جاؤں میں پھر
| وہی کوزہ گر جس کے کوزے
| تھے ہر کاخ و کو اور ہر شہر و قریہ کی نازش
| تھے جن سے امیر و گدا کے مساکن درخشاں
| تمنّا کی وسعت کی کس کو خبر ہے
| جہاں زاد لیکن
| تو چاہے تو میں پھر پلٹ جاؤں اُن اپنے مہجور کوزوں کی جانب
| گل و لا کے سوکھے تغاروں کی جانب
| معیشت کے، اظہارِ فن کے سہاروں کی جانب
| کہ میں اس گل و لا سے، اس رنگ و روغن
| سے پھر وہ شرارے نکالوں کہ جن سے
| دلوں کے خرابے ہوں روشن!


|right arrow link|_

|left arrow link|_



.. |right arrow link| replace:: |arrow_right| §25. گماں کا ممکن۔جو تو ہے میں ہوں!  
.. _right arrow link: /itoohavesomedreams/poem_25

.. |left arrow link| replace::   §27. حسن کوزہ گر ٢ |arrow_left| 
.. _left arrow link: /itoohavesomedreams/poem_27

.. admonition:: I Too Have Some Dreams: N. M. Rashed and Modernism in Urdu Poetry

  یہ ن م راشد کی نظم ہے ـ اس کا انگریزی ترجمہ اور ٹرانزلٹریشن میری کتاب
  کے ضمیمہ میں مل سکتا ہےـ اردو
  پڑھنے والوں کے لئے یہ پیج پیش کیا گیا ہےـ نستعلیق میں
  دکھانے کے لئے 
  `جمیل نوری نستعلیق فانٹ`_  انسٹال کیجئے.


  .. link_figure:: /itoohavesomedreams/
        :title: I Too Have Some Dreams Resource Page
        :class: link-figure
        :image_url: /galleries/i2havesomedreams/i2havesomedreams-small.jpg
        
.. _جمیل نوری نستعلیق فانٹ: http://ur.lmgtfy.com/?q=Jameel+Noori+nastaleeq
 

