.. title: §25ـ گماں کا ممکن۔جو تو ہے میں ہوں!
.. slug: itoohavesomedreams/poem_25
.. date: 2018-11-12 21:20:49 UTC
.. tags: poem itoohavesomedreams rashid
.. link: 
.. description: Urdu version of "Gumāñ kā mumkin—jo tū hai maiñ hūñ!"
.. type: text



| کریم سورج،
| 	جو ٹھنڈے پتّھر کو اپنی گولائی
| 			دے رہا ہے
| 	جو اپنی ہمواری دے رہا ہے۔۔
| (وہ ٹھنڈا پتّھر جو میرے مانند
| 		بھورے سبزوں میں
| 	دورِ ریگ و ہوا کی یادوں میں لوٹتا ہے)
| جو بہتے پانی کو اپنی دریا دلی کی
| 		سرشاری دے رہا ہے
| ۔۔وہی مجھے جانتا نہیں ہے
| مگر مجھی کو یہ وہم شاید
| 	کہ آپ اپنا ثبوت اپنا جواب ہوں میں!
| مجھے وہ پہچانتا نہیں ہے
| کہ میری دھیمی صدا
| زمانے کی جھیل کے دوسرے کنارے
| 				سے آ رہی ہے
| 
| یہ جھیل وہ ہے کہ جس کے اُوپر
| 	ہزاروں انساں
| 		اُفق کے متوازی چل رہے ہیں
| اُفق کے متوازی چلنے والوں کو پار لاتی ہے
| 			وقت لہریں۔۔
| جنہیں تمنّا، مگر، سماوی خرام کی ہو
| انہی کو پاتال زمزموں کی صدا سناتی ہیں
| 			وقت لہریں
| انہیں ڈبوتی ہیں وقت لہریں!
| تمام ملاح اِس صدا سے سدا ہراساں، سدا گریزاں
| کہ جھیل میں اک عمود کا چور چھپ کے بیٹھا ہے
| اُس کے گیسو اُفق کی چھت سے لٹک رہے ہیں۔۔
| پکارتا ہے: "اب آؤ، آؤ!
| 	ازل سے میں منتظر تمہارا۔۔
| میں گمبدوں کے تمام رازوں کو جانتا ہوں
| درخت، مینار، برج، زینے مرے ہی ساتھی
| مرے ہی متوازی چل رہے ہیں
| میں ہر ہوائی جہاز کا آخری بسیرا
| سمندروں پر جہاز رانوں کا میں کنارا
| اب آؤ، آؤ!
| تمہارے جیسے کئی فسانوں کو میں نے اُن کے
| 	ابد کے آغوش میں اُتارا۔"
| تمام ملاح اِس کی آواز سے گریزاں
| اُفق کی شہراہِ مبتذل پر تمام سہمے ہوئے خراماں۔۔
| مگر سماوی خرام والے
| جو پست و بالا کے آستاں پر جمے ہوئے ہیں
| عمود کے اِس طناب ہی سے اُتر رہے ہیں
| اِسی کو تھامے ہوئے بلندی پہ چڑھ رہے ہیں!
| 
| اسی طرح میں بھی ساتھ اِن کے اُتر گیا ہوں
| اور ایسے ساحل پر آ لگا ہوں
| جہاں خدا کے نشانِ پا نے پناہ لی ہے
| جہاں خدا کی ضعیف آنکھیں
| 	ابھی سلامت بچی ہوئی ہیں
| یہی سماوی خرام میرا نصیب نکلا
| 	یہی سماوی خرام جو میری آرزو تھا۔۔
| 
| مگر نجانے
| 	وہ راستہ کیوں چنا تھا میں نے
| کہ جس پہ خود سے وصال تک کا گماں نہیں ہے؟
| وہ راستہ کیوں چنا تھا میں نے
| جو رک گیا ہے دلوں کے ابہام کے کنارے؟
| وہی کنارا کہ جس کے آگے گماں کا ممکن
| 			جو تو ہے میں ہوں!
| 
| مگر یہ سچ ہے،
| میں تجھ کو پانے کی (خود کو پانے کی) آرزو میں
| 	نکل پڑا تھا
| اُس ایک ممکن کی جستجو میں
| 		جو تو ہے میں ہوں
| میں ایسے چہرے کو دھونڈتا تھا
| 		جو تو ہے میں ہوں
| میں ایسی تصویر کے تعاقب میں گھومتا تھا
| 		جو تو ہے میں ہوں!
| 
| میں اِس تعاقب میں
| 	کتنے آغاز گن چکا ہوں
| (میں اُس سے ڈرتا ہوں جو یہ کہتا
| 		ہے مجھ کو اب کوئی ڈر نہیں ہے)
| میں اِس تعاقب میں کتنی گلیوں سے
| 			کتنے چوکوں سے،
| کتنے گونگے مجسّموں سے، گزر گیا ہوں
| میں اِس تعاقب میں کتنے باغوں سے،
| 		کتنی اندھی شراب راتوں سے
| 			کتنی باہوں سے،
| کتنی چاہت کے کتنے بپھرے سمندروں سے
| 				گزر گیا ہوں
| میں کتنی ہوش و عمل کی شمعوں سے،
| 		کتنے ایماں کے گنبدوں سے
| 			گزر گیا ہوں
| میں اِس تعاقب میں کتنے آغاز کتنے انجام گن چکا ہوں۔۔
| اب اس تعاقب میں کوئی در ہے
| 	نہ کوئی آتا ہوا زمانہ
| ہر ایک منزل جو رہ گئی ہے
| 		فقط گزرتا ہوا فسانہ
| تمام رستے، تمام پوچھے سوال، بے وزن ہو چکے ہیں
| جواب، تاریخ روپ دھارے
| 	بس اپنی تکرار کر رہے ہیں۔۔
| "جواب ہم ہیں۔۔جواب ہم ہیں۔۔
| ہمیں یقیں ہے جواب ہم ہیں۔۔"
| یقیں کو کیسے یقیں سے دہرا رہے ہیں کیسے!
| مگر وہ سب آپ اپنی ضد ہیں
| 	تمام، جیسے گماں کا ممکن
| 		جو تو ہے میں ہوں!
| 
| تمام کُندے (تو جانتی ہے)
| جو سطحِ دریا پہ ساتھ دریا کے تیرتے ہیں
| یہ جانتے ہیں یہ حادثہ ہے،
| 		کہ جس سے اِن کو،
| 	(کسی کو) کوئی مفر نہیں ہے!
| تمام کُندے جو سطحِ دریا پہ تیرتے ہیں،
| نہنگ بنّا۔یہ اُن کی تقدیر میں نہیں ہے
| (نہنگ کی ابتدا میں ہے اک نہنگ شامل
| 	نہنگ کا دل نہنگ کا دل!)
| نہ اُن کی تقدیر میں ہے پھر سے درخت بنّا
| (درخت کی ابتدا میں ہے اک درخت شامل
| 	درخت کا دل درخت کا دل!)
| تمام کُندوں کے سامنے بند واپسی کی
| 		تمام راہیں
| وہ سطحِ دریا پہ جبرِ دریا سے تیرتے ہیں
| اب اِن کا انجام گھاٹ ہیں جو
| 	سدا سے آغوش وا کیے ہیں
| اب اِن کا انجام وہ سفینے
| ابھی نہیں جو سفینہ گر کے قیاس میں بھی
| اب اِن کا انجام
| 	ایسے اوراق جن پہ حرفِ سیہ چھپےگا
| اب اِن کا انجام وہ کتابیں۔۔
| کہ جن کے قاری نہیں، نہ ہونگے
| اب اِن کا انجام ایسے صورت گروں کے پردے
| 	ابھی نہیں جن کے کوئی چہرے
| 		کہ اُن پہ آنسو کے رنگ اُتریں،
| اور ان میں آیندہ
| 	اُن کے رویا کے نقش بھر دے!
| 
| غریب کُندوں کے سامنے بند واپسی کی
| 			تمام راہیں
| بقائے موہوم کے جو رستے کھُلے ہیں اب تک
| ہے اُن کے آگے گماں کا ممکن۔۔
| گماں کا ممکن، جو تو ہے میں ہوں!
| 		جو تو ہے، میں ہوں!


|right arrow link|_

|left arrow link|_



.. |right arrow link| replace:: |arrow_right| §24. طلب کے تلے  
.. _right arrow link: /itoohavesomedreams/poem_24

.. |left arrow link| replace::   §26. حسن کوزہ گر |arrow_left| 
.. _left arrow link: /itoohavesomedreams/poem_26

.. admonition:: I Too Have Some Dreams: N. M. Rashed and Modernism in Urdu Poetry

  یہ ن م راشد کی نظم ہے ـ اس کا انگریزی ترجمہ اور ٹرانزلٹریشن میری کتاب
  کے ضمیمہ میں مل سکتا ہےـ اردو
  پڑھنے والوں کے لئے یہ پیج پیش کیا گیا ہےـ نستعلیق میں
  دکھانے کے لئے 
  `جمیل نوری نستعلیق فانٹ`_  انسٹال کیجئے.


  .. link_figure:: /itoohavesomedreams/
        :title: I Too Have Some Dreams Resource Page
        :class: link-figure
        :image_url: /galleries/i2havesomedreams/i2havesomedreams-small.jpg
        
.. _جمیل نوری نستعلیق فانٹ: http://ur.lmgtfy.com/?q=Jameel+Noori+nastaleeq
 

