.. title: §18ـ دل، مرے صحرا نوردِ پیر دل
.. slug: itoohavesomedreams/poem_18
.. date: 2018-11-12 21:20:49 UTC
.. tags: poem itoohavesomedreams rashid
.. link: 
.. description: Urdu version of "Dil, mire ṣaḥrā-navard-e pīr dil"
.. type: text



| نغمہ در جاں، رقص بر پا، خندہ بر لب
| دل، تمنّاؤں کے بے پایاں الاؤ کے قریب!
| 
| دل، مرے صحرا نوردِ پیر دل
| ریگ کے دلشاد شہری، ریگ تو
| 	اور ریگ ہی تیری طلب
| ریگ کی نکہت تری پیکر میں، تیری جاں میں ہے!
| 
| ریگ صبحِ عید کے مانند زر تاب و جلیل،
| ریگ صدیوں کا جمال،
| جشنِ آدم پر بچھڑ کر ملنے والوں کا وصال،
| شوق کے لمحات کے مانند آزاد و عظیم!
| 
| ریگ نغمہ زن
| کہ ذرّے ریگ زاروں کی وہ پا زیبِ قدیم
| جس پہ پڑ سکتا نہیں دستِ لئیم،
| ریگِ صحرا زر گری کی ریگ کی لہروں سے دور
| چشمہِ مکر و ریا شہروں سے دور!
| 
| ریگ شب بیدار ہے، سنتی ہے ہر جابر کی چاپ
| ریگ شب بیدار ہے، نگراں ہے مانندِ نقیب
| دیکھتی ہے سایہِ آمر کی چاپ
| ریگ ہر عیّار، غارت گر کی موت
| ریگ استبداد کے طغیاں کے شور و شر کی موت
| ریگ جب اٹھتی ہے، اُڑ جاتی ہے ہر فاتح کی نیند
| ریگ کے نیزوں سے زخمی، سب شہنشاہوں کے خواب!
| 
| (ریگ، اے صحرا کی ریگ
| مجھ کو اپنی جاگتے ذرّوں کے خوابوں کی
| 		نئی تعبیر دے!)
| 
| ریگ کے ذرّو، اُبھرتی صبح تم،
| آؤ صحرا کی حدوں تک آ گیا روزِ طرب
| دل، مرے صحرا نوردِ پیر دل،
| 		آ چوم ریگ!
| ہے خیالوں کے پریزادوں سے بھی معصوم ریگ!
| 
| ریگ رقصاں، ماہ و سالِ نور تک رقصاں رہے
| اس کا ابریشم ملائم، نرم خو، خنداں رہے!
| 
| دل، مرے صحرا نوردِ پیر دل
| یہ تمنّاؤں کا بے پایاں الاؤ
| راہ گم کردوں کی مشعل، اس کے لب پر "آؤ! آؤ!"
| تیرے ماضی کے خزف ریزوں سے جاگی ہے یہ آگ
| آگ کی قرمز زباں پر انبساطِ نو کے راگ
| دل، مرے صحرا نوردِ پیر دل،
| سر گرانی کی شبِ رفتہ سے جاگ!
| کچھ شرر آغوشِ صرصر میں ہیں گم،
| اور کچھ زینہ بہ زینہ ش؛اوعلوں کے مینار پر چڑھتے ہوئے
| اور کچھ تہ میں الاؤ کی ابھی،
| مضطرب، لیکن مذبذب طفلِ کمسن کی طرح!
| آگ زینہ، آگ رنگوں کا خزینہ
| آگ ان لخّات کا سرچشمہ ہے
| جس سے لیتا ہے غزا عشّاق کے دل کا تپاک!
| چوبِ خشک انگور، اُس کی مے ہے آگ
| سرسراتی ہے رگوں میں عید کے دن کی طرح!
| 
| آگ کاہن، یاد سے اُتری ہوئی صدیوں کی یہ افسانہ خواں
| آنے والے قرنہا کی داستانیں لب پہ ہیں
| دل، مرا صحرا نوردِ پیر دل سن کر جواں!
| 
| آگ آزادی کا، دل شادی کا نام
| آگ پیدائش کا، افزائش کا نام
| آگ کے پھولوں میں نسریں، یاسمن، سمبل، شقیق و نسترن
| آگ آرائش کا، زیبائش کا نام
| آگ وہ تقدیس، دھُل جاتے ہیں جس سے سب گناہ
| آگ انسانوں کی پہلی سانس کے مانند اک ایسا کرم
| عمر کا اک طول بھی جس کا نہیں کافی جواب!
| 
| یہ تمنّاؤں کا بے پایاں الاؤ گر نہ ہو
| اِس لق و دق میں نکل آئیں کہیں سے بھیڑیے
| اِس الاؤ کو سدا روشن رکھو!
| (ریگِ صحرا کو بشارت ہو کہ زندہ ہے الاؤ،
| بھیڑیوں کی چاپ تک آتی نہیں!)
| 
| آگ سے صحرا کا رشتہ ہے قدیم
| آگ سے صحرا کے ٹیڑھے، رینگنے والے،
| 		گرہ آلود، ژولیدہ درخت
| جاگتے ہیں نغمہ در جاں، رقص بر پا، خندہ بر لب
| اور منا لیتے ہیں تنہائی میں جشنِ ماہتاب
| اُن کی شاخیں غیر مرئی طبل کی آواز پر دیتی ہیں تال
| بیخ و بُن سے آنے لگتی ہے خداوندی جلاجل کی صدا!
| 
| آگ سے صحرا کا رشتہ ہے قدیم
| رہروؤں، صحرا نوردوں کے لئے ہے رہنما
| کاروانوں کا سہارا بھی ہے آگ
| اور صہراؤں کی تنہائی کو ہم کرتی ہے آگ!
| 
| آگ کے چاروں طرف پشمینہ و دستار میں لپٹے ہوئے
| 				افسانہ گو
| جیسے گردِ چسم مژگاں کا ہجوم؛
| اُن کے حیرت ناک، دلکش تجربوں سے
| 				جب دمک اٹھتی ہے ریت،
| ذرّہ ذرّہ بجنے لگتا ہے مثالِ سازِ جاں
| گوش بر آواز رہتے ہیں درخت
| اور ہنس دیتے ہیں اپنی عارفانہ بے نیازی سے کبھی!
| 
| یہ تمنّاؤں کا بے پایاں الاؤ گر نہ ہو
| ریگ اپنی خلوتِ بے نور و خود بیں میں رہے
| اپنی یکتائی کی تحسیں میں رہے
| اِس الاؤ کو سدا روشن رکھو!
| 
| یہ تمنّاؤں کا بے پایاں الاؤ گر نہ ہو
| ایشیا، افریقہ پہنائی کا نام
| 		(بے کار پہنائی کا نام)
| یوروپ اور امریکہ دارائی کا نام
| 		(تکرارِ دارائی کا نام!)
| 
| میرا دل، صحرا نوردِ پیر دل
| جاگ اٹھا ہے، مشرق و مغرب کی ایسی یک دلی
| 	کے کاروانوں کا نیا رویا لئے:
| یک دلی ایسی کہ ہوگی فہمِ انساں سے ورائ
| یک دلی ایسی کہ ہم سب کہہ اٹھیں
| 	"اس قدر عجلت نہ کر
| 	اژدہامِ گل نہ بن!"
| کہہ اُٹھیں ہم:
| 	"تُو غمِ کُل تو نہ تھی
| 	اب لخّتِ کُل بھی نہ بن
| 	روزِ آسائش کی بے دردی نہ بن
| 	یک دلی بن، ایسا سنّاٹا نہ بن،
| 	جس میں تابستاں کی دو پہروں کی
| 	بے حاسل کسالت کے سوا کچھ بھی نہ ہو!"
| 
| اِس "جفا گر" یک دلی کے کارواں یوں آئیں‌گے
| دستِ جادو گر سے جیسے پھوٹ نکلے ہوں طلسم،
| عشقِ حاسل خیز سے، یا زورِ پیدائی سے جیسے نا گہاں
| کھُل گئے ہوں مشرق و مغرب کے جسم،
| 	۔۔جسم، صدیوں کے عقیم!
| 
| کارواں فرخُندہ پے، اور اُن کا بار
| کیسہ کیسہ تختِ جم و تاجِ کے
| کوزہ کوزہ فرد کی سطوت کی مے
| جامہ جامہ روز و شب محنت کا خے
| نغمہ نغمہ حرّیت کی گرم لِے!
| 
| سالکو، فیروز بختو، آنے والے قافلو
| شہر سے لوٹوگے تم تو پاؤگے
| ریت کی سرحد پہ جو روحِ ابد خوابیدہ تھی
| جاگ اٹھی ہے "شکوہ ہائے نے" سے وہ
| ریت کی تہ میں جو شرمیلی سحر روئیدہ تھی
| جاگ اٹھی ہے حرّیت کی لِے سے وہ!
| 
| اِتنی دوشیزہ تھی، اِتنی مرد نا دیدہ تھی صبح
| پوچھ سکتے تھے نہ اُس کی عمر ہم!
| درد سے ہنستی نہ تھی،
| ذرّوں کی رعنائی پہ بھی ہنستی نہ تھی،
| ایک محجوبانہ بے خبری میں ہنس دیتی تھی صبح!
| اب مناتی ہے وہ صحرا کا جلال
| جیسے عزّ و جل کے پاؤں کی یہی محراب ہو!
| زیرِ محراب آ گئی ہو اُس کو بیداری کی رات
| خود جنابِ عزّ و جل سے جیسے اُمّیدِ زفاف
| 	(سارے نا کردہ گناہ اُس کے معاف!)
| 
| صبحِ صحرا، شاد باد!
| اے عروسِ عزّ و جل، فرخُندہ رُو، تابندہ خُو
| تو اک ایسے حجرہِ شب سے نکل کر آئی ہے
| دستِ قاتل نے بہایا تھا جہاں ہر سیج پر
| سینکڑوں تاروں کا رخشندہ لہو، پھولوں کے پاس!
| صبحِ صحرا، سر مرے زانو پہ رکھ کر داستاں
| اُن تمنّا کے شہیدوں کی نہ کہہ
| اُن کی نیمہ رس امنگوں، آرزوؤں کی نہ کہہ
| جن سے ملنے کا کوئی امکاں نہیں
| شہد تیرا جن کو نوشِ جاں نہیں!
| آج بھی کچھ دور، اِس صحرا کے پار
| دیو کی دیوار کے نیچے نسیم
| روز و شب چلتی ہے مبہم خوف سے سہمی ہوئی
| جس طرح شہروں کی راہوں پر یتیم
| نغمہ بر لب تا کہ اُن کی جاں کا سنّاٹا ہو دور!
| 
| آج بھی اِس ریگ کے ذرّوں میں ہیں
| ایسے ذرّے، آپ ہی اپنے غنیم
| آج بھی اِس آگ کے ش؛اوعلوں میں ہیں
| وہ شرر جو اِس کی تہ میں پر بریدہ رہ گئے
| 	مثلِ حرفِ نا شنیدہ رہ گئے!
| صبحِ صحرا، اے عروسِ عزّ و جل
| آ کہ اُن کی داستاں دہرائیں ہم
| اُن کی عزّت، اُن کی عظمت گائیں ہم
| 
| صبح، ریت اور آگ، ہم سب کا جلال!
| یک دلی کے کارواں اُن کا جمال
| 	آؤ!
| اِس تہلیل کے حلقے میں ہم مل جائیں
| 	آؤ!
| شاد باد اپنی تمنّاؤں کا بے پایاں الاؤ!


|right arrow link|_

|left arrow link|_



.. |right arrow link| replace:: |arrow_right| §17. زندگی سے ڈرتے ہو؟  
.. _right arrow link: /itoohavesomedreams/poem_17

.. |left arrow link| replace::   §19. ایک اور شہر |arrow_left| 
.. _left arrow link: /itoohavesomedreams/poem_19

.. admonition:: I Too Have Some Dreams: N. M. Rashed and Modernism in Urdu Poetry

  یہ ن م راشد کی نظم ہے ـ اس کا انگریزی ترجمہ اور ٹرانزلٹریشن میری کتاب
  کے ضمیمہ میں مل سکتا ہےـ اردو
  پڑھنے والوں کے لئے یہ پیج پیش کیا گیا ہےـ نستعلیق میں
  دکھانے کے لئے 
  `جمیل نوری نستعلیق فانٹ`_  انسٹال کیجئے.


  .. link_figure:: /itoohavesomedreams/
        :title: I Too Have Some Dreams Resource Page
        :class: link-figure
        :image_url: /galleries/i2havesomedreams/i2havesomedreams-small.jpg
        
.. _جمیل نوری نستعلیق فانٹ: http://ur.lmgtfy.com/?q=Jameel+Noori+nastaleeq
 

