.. title: §13ـ منّ و سلویٰ
.. slug: itoohavesomedreams/poem_13
.. date: 2018-11-12 21:20:49 UTC
.. tags: poem itoohavesomedreams rashid
.. link: 
.. description: Urdu version of "Mann-o-salvâ"
.. type: text



| "خدائے بر تر،
| یہ داریوشِ بزرگ کی سر زمیں،
| یہ نوشیروانِ عادل کی داد گاہیں،
| تصوّف و حکمت و ادب کے نگار خانے،
| یہ کیوں سیہ پوست دشمنوں کے وجود سے
| آج پھر ابلتے ہوئے سے ناسور بن رہے ہیں؟"
| 
| "ہم اس کے مجرم نہیں ہیں، جانِ عجم نہیں ہیں
| وہ پہلا انگریز
| جس نے ہندوستاں کے ساحل پہ
| لا کے رکھی تھی جنسِ سوداگری
| یہ اس کا گناہ ہے
| جو ترے وطن کی
| زمینِ گل پوش کو
| ہم اپنے سیاہ قدموں سے روندتے ہیں!
| 
| یہ شہر اپنا وطن نہیں ہے،
| مگر فرنگی کی رہزنی نے
| اسی سے نا چار ہم کو وا بستہ کر دیا ہے،
| ہم اس کی تہذیب کی بلندی کی چھپکلی بن کے رہ گئے ہیں!
| 
| وہ راہزن جو یہ سوچتا ہے:
| "کہ ایشیا ہے کوئی عقیم و امیر بیوہ
| جو اپنی دولت کی بے پناہی سے مبتلا اک فشار میں ہے،
| اور اس کا آغوشِ آرزو مند وا مرے انتظار میں ہے،
| اور ایشیائی،
| قدیم خواجہ سراؤں کی اک نژادِ کاہل،
| اجل کی راہوں پہ تیز گامی سے جا رہے ہیں"۔۔
| 
| مگر یہ ہندی
| گرسنہ و پا برہنہ ہندی
| جو سالکِ راہ ہیں
| مگر راہ و رسمِ منزل سے بے خبر ہیں
| گھروں کو ویران کر کے،
| لاکھوں صعوبتوں سہ کے
| اور اپنا لہو بہا کر
| اگر کبھی سوچتے ہیں کچھ تو یہی،
| ۔کہ شاید انہی کے بازو
| نجات دلوا سکیں‌گے مشرق کو
| غیر کے بے پناہ بپھرے ہوئے ستم سے۔
| یہ سوچتے ہیں:
| ۔یہ حادثہ ہی کہ جس نے پھینکا ہے
| لا کے ان کو ترے وطن میں
| وہ آنچ بن جائے،
| جس سے پھنک جائے،
| وہ جراثیم کا اکھاڑا،
| جہاں سے ہر بار جنگ کی بوئے تند اٹھتی ہے
| اور دنیا میں پھیلتی ہے!۔
| 
| میں جانتا ہوں
| مرے بہت سے رفیق
| اپنی اداس، بے کار زندگی کے
| دراز و تاریک فاصلوں میں
| کبھی کبھی بھیڑیوں کے مانند
| آ نکلتے ہیں، رہگزاروں پہ
| جستجو میں کسی کے دو "ساقِ صندلیں" کی!
| کبھی دریچوں کی اوٹ میں
| نا تواں پتنگوں کی پھڑپھڑاہٹ پہ
| ہوش سے بے نیاز ہو کر وہ ٹوٹتے ہیں؛
| وہ دستِ سائل
| جو سامنے ان کے پھیلتا ہے
| اس آرزو میں
| کہ ان کی بخشش سے
| پارہِ نان، من و سلویٰ کا روپ بھر لے،
| وہی کبھی اپنی نازکی سے
| وہ رہ سجھاتا ہے
| جس کی منزل پہ شوق کی تشنگی نہیں ہے!
| 
| تو ان مناظر کو دیکھتی ہے!
| تو سوچتی ہے:
| ۔۔یہ سنگدل، اپنی بز دلی سے
| فرنگیوں کی محبّتِ نا روا کی زنجیر میں بندھے ہیں
| انہی کے دم سے یہ شہر ابلتا ہوا سا ناسور بن رہا ہے۔۔!
| 
| محبّتِ نا روا نہیں ہے
| بس ایک زنجیر،
| ایک ہی آہنی کمندِ عظیم
| پھیلی ہوئی ہے،
| مشرق کے اک کنارے سے دوسرے تک،
| مرے وطن سے ترے وطن تک،
| بس ایک ہی عنکبوت کا جال ہے کہ جس میں
| ہم ایشیائی اسیر ہو کر تڑپ رہے ہیں!
| مغول کی صبحِ خوں فشاں سے
| فرنگ کی شامِ جاں ستاں تک!
| تڑپ رہے ہیں
| بس ایک ہی دردِ لا دوا میں،
| اور اپنے آلامِ جاں گزا کے
| اس اشتراکِ گراں بہا نے بھی
| ہم کو اک دوسرے سے اب تک
| قریب ہونے نہیں دیا ہے!


|right arrow link|_

|left arrow link|_



.. |right arrow link| replace:: |arrow_right| §12. تیل کے سوداگر  
.. _right arrow link: /itoohavesomedreams/poem_12

.. |left arrow link| replace::   §14. تماشاگہِ لالہ زار |arrow_left| 
.. _left arrow link: /itoohavesomedreams/poem_14

.. admonition:: I Too Have Some Dreams: N. M. Rashed and Modernism in Urdu Poetry

  یہ ن م راشد کی نظم ہے ـ اس کا انگریزی ترجمہ اور ٹرانزلٹریشن میری کتاب
  کے ضمیمہ میں مل سکتا ہےـ اردو
  پڑھنے والوں کے لئے یہ پیج پیش کیا گیا ہےـ نستعلیق میں
  دکھانے کے لئے 
  `جمیل نوری نستعلیق فانٹ`_  انسٹال کیجئے.


  .. link_figure:: /itoohavesomedreams/
        :title: I Too Have Some Dreams Resource Page
        :class: link-figure
        :image_url: /galleries/i2havesomedreams/i2havesomedreams-small.jpg
        
.. _جمیل نوری نستعلیق فانٹ: http://ur.lmgtfy.com/?q=Jameel+Noori+nastaleeq
 

