.. title: §12ـ تیل کے سوداگر
.. slug: itoohavesomedreams/poem_12
.. date: 2018-11-12 21:20:49 UTC
.. tags: poem itoohavesomedreams rashid
.. link: 
.. description: Urdu version of "Tel ke saudāgar"
.. type: text



| بخارا سمرقند اک خالِ ہندو کے بدلے!
| بجا ہے، بخارا سمرقند باقی کہاں ہیں؟
| بخارا سمرقند نیندوں میں مد ہوش،
| اک نیلگوں خامشی کے حجابوں میں مستور
| اور رہروؤں کے لئے ان کے در بند،
| سوئی ہوئی مہ جبینوں کی پلکوں کے مانند،
| روسی "ہمہ اوست" کے تازیانوں سے معذور
| دو مہ جبینیں!
| 
| بخارا سمرقند کو بھول جاؤ
| اب اپنے درخشندہ شہروں کی
| طہران و مشہد کے سقف و در و بام کی فکر کر لو،
| تم اپنے نئے دَورِ ہوش و عمل کے دل آویز چسموں کو
| اپنی نئی آرزوؤں کے ان خوب صورت کنایوں کو
| محفوظ کر لو!
| 
| ان اونچے درخشندہ شہروں کی
| کوتہ فصیلوں کو مضبوط کر لو
| ہر اک برج و بار و پر اپنے نگہباں چڑھا دو،
| گھروں میں ہوا کے سوا،
| سب صداؤں کی شمعیں بجھا دو!
| کہ باہر فصیلوں کے نیچے
| کئی دن سے رہزن ہیں خیمہ فگن،
| تیل کے بوڑھے سوداگروں کے لبادے پہن کر،
| وہ کل رات یا آج کی رات کی تیرگی میں،
| چلے آئیں‌گے بن کے مہماں
| تمہارے گھروں میں،
| وہ دعوت کی شب جام و مینا لنڈھائیں‌گے
| ناچیں‌گے، گائیں‌گے،
| بے ساختہ قہقہوں ہمہموں سے
| وہ گرمائیں‌گے خونِ محفل!
| 
| مگر پو پھٹےگی
| تو پلکوں سے کھو دوگے خود اپنے مردوں کی قبریں
| بساطِ ضیافت کی خاکسترِ سوختہ کے کنارے
| بہاؤگے آنسو!
| 
| بہائے ہیں ہم نے بھی آنسو!
| ۔۔گو اب خالِ ہندو کی ارزش نہیں ہے
| عذارِ جہاں پر وہ رستا ہوا گہرا ناسور
| افرنگ کی آزِ خوں خوار سے بن چکا ہے۔۔
| بہائے ہیں ہم نے بھی آنسو،
| ہماری نگاہوں نے دیکھے ہیں
| سیّال سایوں کے مانند گھلتے ہوئے شہر
| گرتے ہوئے بام و در
| اور مینار و گنبد،
| مگر وقت محراب ہے
| اور دشمن اب اس کی خمیدہ کمر سے گذرتا ہوا
| اس کے نچلے افق پر لڑھکتا چلا جا رہا ہے!
| ہمارے برہنہ و کاہیدہ جسموں نے
| وہ قید و بند اور وہ تازیانے سہے ہیں
| کہ ان سے ہمارا ستمگر
| خود اپنے الاؤ میں جلنے لگا ہے!
| 
| مرے ہاتھ میں ہاتھ دے دو!
| مرے ہاتھ میں ہاتھ دے دو!
| کہ دیکھی ہیں میں نے
| ہمالہ و الوند کی چوٹیوں پر انا کی شعاعیں،
| انہیں سے وہ خورشید پھوٹےگا آخر
| بخارا سمرقند بھی سالہاسال سے
| جس کی حسرت کے دریوزہ گر ہیں!


|right arrow link|_

|left arrow link|_



.. |right arrow link| replace:: |arrow_right| §11. ہمہ اوست  
.. _right arrow link: /itoohavesomedreams/poem_11

.. |left arrow link| replace::   §13. منّ و سلویٰ |arrow_left| 
.. _left arrow link: /itoohavesomedreams/poem_13

.. admonition:: I Too Have Some Dreams: N. M. Rashed and Modernism in Urdu Poetry

  یہ ن م راشد کی نظم ہے ـ اس کا انگریزی ترجمہ اور ٹرانزلٹریشن میری کتاب
  کے ضمیمہ میں مل سکتا ہےـ اردو
  پڑھنے والوں کے لئے یہ پیج پیش کیا گیا ہےـ نستعلیق میں
  دکھانے کے لئے 
  `جمیل نوری نستعلیق فانٹ`_  انسٹال کیجئے.


  .. link_figure:: /itoohavesomedreams/
        :title: I Too Have Some Dreams Resource Page
        :class: link-figure
        :image_url: /galleries/i2havesomedreams/i2havesomedreams-small.jpg
        
.. _جمیل نوری نستعلیق فانٹ: http://ur.lmgtfy.com/?q=Jameel+Noori+nastaleeq
 

