.. title: §11ـ ہمہ اوست
.. slug: itoohavesomedreams/poem_11
.. date: 2018-11-12 21:20:49 UTC
.. tags: poem itoohavesomedreams rashid
.. link: 
.. description: Urdu version of "Hamah ūst"
.. type: text



| خیابانِ سعدی میں
| رُوسی کتابوں کی دکّان پر ہم کھڑے تھے
| مجھے رُوس کے چیدہ صنعت گروں کے
| نئے کار ناموں کی اک عمر سے تشنگی تھی!
| مجھے رُوسیوں کے "سیاسی ہمہ اوست" سے کوئی رغبت نہیں ہے
| مگر ذرّے ذرّے میں
| انساں کے جوہر کی تابندگی دیکھنے کی تمنّا ہمیشہ رہی ہے!
| اور اُس شام تو مرسدہ کی عروسی تھی،
| اُس شوخ، دیوانی لڑکی کی خاطر
| مجھے ایک نازک سی سوغات کی جستجو تھی۔
| 
| وہ میرا نیا دوست خالد
| ذرا دُور، تختے کے پیچھے کھڑی
| اک تنو مند لیکن فسوں کار،
| قفقاز کی رہنے والی حسینہ سے شیر و شکر تھا!
| یہ بھوکا مسافر،
| جو دستے کے ساتھ
| ایک خیمے میں، اک دُور افتادہ صحرا میں
| مدّت سے عزلت گزیں تھا،
| بڑی التجاؤں سے
| اِس حورِ قفقاز سے کہہ رہا تھا:
| "نجانے کہاں سے ملا ہے
| تمہاری زباں کو یہ شہد
| اور لہجے کو مستی!
| میں کیسے بتاؤں
| میں کس درجہ دلدادہ ہوں رُوسیوں کا
| مجھے اشتراکی تمدّن سے کتنی محبّت ہے،
| کیسے بتاؤں!
| یہ ممکن ہے تم مجھ کو رُوسی سکا دو؟
| کہ رُوسی ادیبوں کی سر چشمہ گاہوں کو میں دیکھنا چاہتا ہوں!"
| 
| وہ پروردہِ عشوہ بازی
| کنکھیوں سے یوں دیکھتی تھی
| کہ جیسے وہ اُن سر نگوں آرزوؤں کو پہچانتی ہو،
| جو کرتی ہیں اکثر یوں ہی رو شناسی
| کبھی دوستی کی تمنّا،
| کبھی علم کی پیاس بن کر!
| وہ کھولہے ہلاتی تھی، ہنستی تھی
| اک سوچی سمجھی حسابی لگاوٹ سے،
| جیسے وہ اُن خفیہ سر چشمہ گاہوں کے ہر راز کو جانتی ہو،
| وہ تختے کے پیچھے کھڑی، قہقہے مارتی، لوٹتی تھی!
| 
| کہا میں نے خالد سے:
| "بہروپئے!
| اِس ولایت میں ضربِ مثل ہے
| "کہ اونٹوں کی سودا گری کی لگن ہو
| تو گھر اُن کے قابل بناؤ۔۔،
| اور اِس شہر میں یوں تو استانیاں ان گنت ہیں
| مگر اِس کی اُجرت بھلا تم کہاں دے سکوگے!"
| وہ پھر مضطرب ہو کے، بے اختیاری سے ہنسنے لگی تھی!
| وہ بولی:
| "یہ سچ ہے
| کہ اُجرت تو اک شاہی بھر کم نہ ہوگی،
| مگر فوجیوں کا بھروسہ ہی کیا ہے،
| بھلا تم کہاں باز آؤگے
| آخر زباں سیکنے کے بہانے
| خیانت کروگے!"
| وہ ہنستی ہوئی
| اک نئے مشتری کی طرف ملتفت ہو گئی تھی!
| 
| تو خالد نے دیکھا
| کہ رومان تو خاک میں مل چکا ہے۔۔
| اُسے کھینچ کر جب میں بازار میں لا رہا تھا،
| لگاتار کرنے لگا وہ مقولوں میں باتیں:
| 	"زباں سیکنی ہو تو عورت سے سیکھو!
| 	جہاں بھر میں رُوسی ادب کا نہیں کوئی ثانی!
| 	وہ قفقاز کی حور، مزدور عورت!
| 	جو دنیا کے مزدور سب ایک ہو جائیں
| 	آغاز ہو اک نیا دورہِ شادمانی!"
| 
| 	مرے دوستوں میں بہت اشتراکی ہیں،
| 	جو ہر محبّت میں مایوس ہو کر،
| 	یوں ہی اک نئے دورہِ شادمانی کی حسرت میں
| 	کرتے ہیں دلجوئی اک دوسرے کی،
| 	اور اب ایسی باتوں پہ میں
| 	زیرِ لب بھی کبھی مسکراتا نہیں ہوں!
| 
| اور اُس شام جشنِ عروسی میں
| حسن و مئے و رقص و نغمہ کے طوفان بہتے رہے تھے،
| فرنگی شرابیں تو عنقا تھیں
| لیکن مئےِ نابِ قزوین و خُلارِ شیراز کے دورِ پیہم سے،
| 	رنگیں لباسوں سے،
| 	خوشبو کی بے باک لہروں سے،
| 	بے ساختہ قہقہوں، ہمہموں سے،
| 	مزامیر کے زیر و بم سے،
| 	وہ ہنگامہ برپا تھا،
| 	محسوس ہوتا تھا
| طہران کی آخری شب یہی ہے!
| اچانک کہا مرسدہ نے:
| 	"تمہارا وہ ساتھی کہاں ہے؟
| 	ابھی ایک صوفے پہ دیکھا تھا میں نے
| 	اُسے سر بزانو!"
| 
| تو ہم کچھ پریشان سے ہو گئے
| اور کمرہ بہ کمرہ اُسے ڈھونڈنے مل کے نکلے!
| لو اک گوشہِ نیم روشن میں
| وہ اشتراکی زمیں پر پڑا تھا
| اُسے ہم ہلایا کیے اور جھنجھوڑا کیے
| وہ تو ساکت تھا، جامد تھا!
| رُوسی ادیبوں کی سر چشمہ گاہوں کی اُس کو خبر ہو گئی تھی؟


|right arrow link|_

|left arrow link|_



.. |right arrow link| replace:: |arrow_right| §10. انتقام  
.. _right arrow link: /itoohavesomedreams/poem_10

.. |left arrow link| replace::   §12. تیل کے سوداگر |arrow_left| 
.. _left arrow link: /itoohavesomedreams/poem_12

.. admonition:: I Too Have Some Dreams: N. M. Rashed and Modernism in Urdu Poetry

  یہ ن م راشد کی نظم ہے ـ اس کا انگریزی ترجمہ اور ٹرانزلٹریشن میری کتاب
  کے ضمیمہ میں مل سکتا ہےـ اردو
  پڑھنے والوں کے لئے یہ پیج پیش کیا گیا ہےـ نستعلیق میں
  دکھانے کے لئے 
  `جمیل نوری نستعلیق فانٹ`_  انسٹال کیجئے.


  .. link_figure:: /itoohavesomedreams/
        :title: I Too Have Some Dreams Resource Page
        :class: link-figure
        :image_url: /galleries/i2havesomedreams/i2havesomedreams-small.jpg
        
.. _جمیل نوری نستعلیق فانٹ: http://ur.lmgtfy.com/?q=Jameel+Noori+nastaleeq
 

